امریکا نے ایران، روس، اٹلی اور نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے 4 افراد پر پابندیاں لگا دیں

واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے انسداد دہشت گردی اور حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی روکنے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کردیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران، روس، اٹلی اور نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے چار افراد اور متعدد اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان پابندیوں کا تعلق ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل ٹیکنالوجی سے متعلق سرگرمیوں سے ہے۔ پابندیوں کی زد میں ایرانی شہری بہروز نمازی اور اس سے منسلک نیٹ ورک، روسی کمپنی ایوراتیک، ایرانی کمپنی نیکا جیٹ اور نائیجیریا کی وینگارڈ ٹیکنیکل سپلائی شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد دہشت گردی کی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس اور حساس ٹیکنالوجی کی غیر قانونی ترسیل کو روکنا ہے۔ اس کے علاوہ میکسیکو کے جواریز کارٹیل اور لاس ویاگراس گروپس سے متعلق پابندیوں کی تفصیلات بھی اپ ڈیٹ کی گئی ہیں، جبکہ انہیں دہشت گرد تنظیموں سے متعلق اضافی درجہ بندی میں شامل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ کوئی نیا معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا مزید سخت اقدامات کر سکتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست رابطہ ہوا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ ایران کو نئے معاہدے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم تنصیبات کو ممکنہ اہداف قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کے اپنے سابقہ بیان سے بھی پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ آبنائے ہرمز پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس نافذ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بجائے خلیجی ممالک امریکا میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے سکتے ہیں، جس سے تجارتی اور معاشی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
